بھارت میں غیر مساویانہ اور غیر متوازن معاشی ترقی کا انکشاف ہوا ہے۔
انڈیا کے ایک کاروباری جریدے کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کی 1.4 ارب آبادی میں سے ایک ارب لوگوں کے پاس انتہائی بنیادی ضروریات کے علاوہ دوسری اشیا خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب ہونے کے باوجود اس کی مارکیٹ قریباً میکسیکو کے برابر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انڈیا میں حالیہ سالوں میں معاشی ترقی غیرمساویانہ اور غیرمتوازن رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں امیر اور معاشی طور پر خوشحال لوگوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلے سے موجود امیر لوگوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔
یوں بھارت کی معاشی پالیسیاں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والی آبادی کو اوپر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان کا زیادہ فائدہ ملک کی امیر آبادی کو پہنچا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس غیرمتوازن ترقی کی وجہ سے انڈیا میں کاروباری شعبے پر بھی منفی اثرات پڑرہے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں میں ان کاروباری کمپنیوں کو مندی کا سامنا رہا ہے جو متوسط اور نچلے طبقے کو مصنوعات اور خدمات فراہم کرتی ہیں جب کہ ان کمپنیوں کو نفع پہنچا جو امیر ترین طبقے کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنی مصنوعات اور خدمات میں معیار، اور تعیش کا اضافہ کرتی ہیں۔