روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں امن مذاکرات کے لیے بالآخر یورپ کی شرکت ضروری ہوگی، لیکن اس سے پہلے روس امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کرنا چاہتا ہے۔
یوکرین میں جاری جنگ کے تین سال مکمل ہونے پر پیوٹن نے روسی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ولادیمیر پیوٹن نے عندیہ دیا کہ جنگ کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہفتوں میں اس تنازعے کو ختم کر سکتے ہیں لیکن اس دعوے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ یوکرین جنگ کو جذبات کے بجائے عقلی انداز میں دیکھ رہے ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اتنی جلدی نہیں ہوگا جتنا ٹرمپ چاہ رہے ہیں روسی صدر نے تصدیق کی کہ ان کی ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات ہوئی ہے اور حالیہ سعودی عرب میں امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی یوکرین تنازعے پر گفتگو ہوئی تھی لیکن یہ ابتدائی سطح پر تھی اور اس میں تفصیل سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
پیوٹن نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات یورپ سے متعلق نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا تھا، کیونکہ ان کے بقول یوکرین جیسے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے روس اور امریکہ کو سب سے پہلے ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ابتدائی مذاکرات کا مقصد صرف اعتماد سازی تھا، تاہم جب بات باقاعدہ امن معاہدے کی طرف بڑھے گی تو یورپی ممالک کی شرکت بھی منطقی ہوگی، کیونکہ روس نے کبھی بھی انہیں مذاکراتی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش نہیں کی۔
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنزکے صدر مائیکل فرومن نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی معاہدے کو ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے ٹرمپ کو اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یوکرین کی مالی اور معاشی بقا کا بوجھ بنیادی طور پر انہی پر پڑے گا۔