عوام سے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کے نام پر وصول کردہ ساڑھے 300 ارب روپے خرچ نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
عوام سے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کے نام پر وصول کردہ ساڑھے 300 ارب روپے فنڈز حکومت کے بینک کھاتوں میں پڑے ہیں۔ پی اے سی ارکان نے عوام سے جی آئی ڈی سی کی وصولی ظلم اور خلاف ضابطہ قرار دے دی۔ موجود فنڈز متبادل منصوبوں کیلئے استعمال کرنے کی ہدایت کردی۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے فنڈز خرچ نہ ہونے کی وجہ ایران پر عالمی پابندیاں، افغانستان کی صورتحال اور تاپی تنازعہ کو قرار دیا۔ پی اے سی ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں قابل عمل پلان مانگ لیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا دو کمپنیاں پیٹرولیم لیوی اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں اکہتر ارب ڈکار گئی ہیں۔ پی اے سی نے چیئرمین نیب، چیئرمین ایس ایس ی پی اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر لیا۔ پی اے سی کو اس حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ بھی دی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دو پیٹرولیم کمپنیوں نے عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 47 ارب وصول کیئے لیکن یہ قومی خزانے میں جمع نہیں کروائے۔ 21 ارب لیٹ پیمنٹ سرچارج کے ساتھ یہ واجیاب 71 ارب تک پہنچ چکے۔ ایک کمپنی نے خود کو دیوالیہ ظاہر کرکے نئے نام سے رجسٹریشن بھی کروالی۔ کمیٹی نے دوبارہ رجسٹریشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دن دہاڑے ڈکیتی قرار دیا۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا دونوں کمپنیاں 48 ماہ تک ماہانہ ایک ارب روپے ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن لیٹ پیمنٹ سرچارج دینے سے انکاری ہیں۔
کمیٹی نے اس پر چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین ایس ای سی پی کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کو کھاد کمپنیوں سے جی آئی ڈی سی کی مد میں 34 ارب روپے کی ریکوری کی ہدایت بھی کر دی۔