پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہمارے لیے آج تک مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں، اتنا جانبدار اور کمپرمائزڈ الیکشن کمیشن پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں تبدیلیاں کی گئیں ، الیکشن قوانین تبدیل کیے گئے، انتخابی نشان لے کر عجیب وغریب انتخابی نشان دیئے گئے لیکن عوام نے ان سب کے باوجود پی ٹی آئی امیدواروں کو ووٹ دیئے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سینیٹر ثانیہ نشتر کا استعفیٰ آج تک منظور نہیں کیا گیا لیکن ہمارے ایک سینیٹر نے کچھ دن پہلے استعفیٰ دیا وہ منظور ہوگیا، ایسی چیزیں ہونے سے معاشرہ تقسیم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن شفاف اور غیرجانبدار ہوتے ہیں تو اُن لوگوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو عوام کیلئے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ سارے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ملک میں کبھی شفاف اور غیرجانبدار الیکشن نہیں ہوئے، آج کیوں ہمارے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، بھارت رقبے میں پاکستان سے بڑا ہے، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، بھارت کیوں ترقی کر رہا ہے، ہم کیوں پیچھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اس ملک میں اپنا مستقبل نہیں دیکھ رہے، نوجوان کشتیوں میں ڈوب رہے ہیں، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے نہیں، لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، کوئی کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا، ایسے حالات میں ہم کہیں گے کہ سب اچھا ہے اور خوشحالی ہے،کوئی کیسے آئے گا؟۔