پاکستان میں اینٹی کرپشن کے اداروں کو مضبوط بنانے اور گورننس میں اصلاحات کے معاملے پر آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ 14 فروری تک اسلام آباد میں قیام کرے گا۔
ذرائع کے مطابقا آئی ایم ایف کا وفد نیب، وزارت خزانہ ، اسٹیٹ بینک اور وزارت قانون سمیت مختلف اداروں اور وزارتوں کے حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ ملاقاتوں میں عدلیہ کی آزادی، قانونی اور مالی امور میں شفافیت اور ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار پر بات چیت کا امکان ہے۔
وفد کے دورے کا مقصد قانون کی حکمرانی، انسداد بدعنوانی، مشکوک ٹرانزیکشنز، بینکنگ ریگولیشنز اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے طریقہ کار پر عمل درآمد اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کا جائزہ لینا ہے ۔ عدالتی نظام میں آزادی کا جائزہ لینا بھی وفد کے مینڈیٹ میں شامل ہے۔
بدعنوانی کی روک تھام کیلئے نیب کے کردار اور اسے بہتر بنانے پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ وفد جولائی میں اپنی جائزہ رپورٹ جاری کرے گا۔ اینٹی کرپشن اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات بھی 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے آئی ایم ایف وفد کی آمد پر فی الحال تبصرے سے گریز کیا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے آئی ایم ایف کا مشن جلد پاکستان آئے گا۔ جولائی سے دسمبر کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔