وفاقی کابینہ کی جانب سے 14 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز ) کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دے دی گئی۔
منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔
کابینہ اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں 14 آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دی گئی اور ان آئی پی پیز سے گزشتہ برسوں کے اضافی منافع کی مد میں 35 ارب روپے کٹوتی ہوگی جبکہ نظرثانی سے 1.4 کھرب روپے کا فائدہ ہوگا۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدے سے گردشی قرضہ ختم ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انسداد منشیات ڈویژن کو وزارت داخلہ اور ہوابازی ڈویژن کو وزارت دفاع میں ضم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
وزیر اعظم کا اجلاس سے خطاب
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے یورپ کیلئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن ( پی آئی اے ) کی پروازوں کی بحالی کو بڑی کامیابی قرار دیا اور وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، مواصلات اور نجکاری عبدالعلیم خان سمیت پوری کابینہ کی کوششوں کو سراہا اور مبارکباد بھی دی۔
شہباز شریف نے کہا برطانیہ کیلئے بھی پی آئی اے کا فلائیٹ آپریشن جلد بحال ہوگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور کے وزیر ہوابازی کے بیان سے معاشی تباہی ہوئی لیکن ہماری کوششوں سے اس کے اثرات ختم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجگور کے مقام پر پاک ایران نئی سرحدی کراسنگ سے قانونی تجارت میں اضافے کے ساتھ اسمگلنگ ختم ہوگی اور کُرم میں حالات معمول پر آرہے ہیں جبکہ آرمی چیف کی سربراہی میں فتنہ الخوارج کیخلاف کامیاب آپریشنز بھی جاری ہیں، امید ہے جلد پاکستان میں 2018 جیسا امن واپس آئے گا۔