سڈنی میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا اختتام دلچسپ اور ڈرامائی صورتحال کے ساتھ ہوا۔ بھارتی ٹیم کے قائم مقام کپتان جسپریت بمراہ اور آسٹریلیا کے نوجوان اوپنر سام کونسٹاس کے درمیان زبردست تلخ کلامی نے میچ میں مزید شدت پیدا کر دی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
دن کے اختتامی لمحات میں آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ کی سست روی کے باعث دن کا کھیل طویل ہوگیا۔ جس وقت بمراہ اپنی آخری گیند کرانے کے لیے دوڑ رہے تھے، خواجہ نے اچانک کریز چھوڑ دی، جس پر بمراہ شدید غصے میں نظر آئے۔
نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود سام کونسٹاس نے اپنے ساتھی خواجہ کا دفاع کیا اور بمراہ سے زبانی جھڑپ میں شامل ہو گئے۔ ایمپائر شرف الدولہ سائکت کو معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔
تاہم، جسپریت بمراہ نے آخری گیند پر خواجہ کو پویلین بھیج کر حساب چکا دیا۔ خواجہ نے ایک گیند پر ایج دیا جسے کے ایل راہول نے دوسری سلپ پر کیچ کرکے بھارتی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی۔
جب سام کونستاس دن کے اختتام پر پویلین لوٹ رہے تھے، تو بمراہ نے انہیں سرد نگاہوں سے گھورا، جس سے میچ کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
سام کونستاس کی جارحانہ بیٹنگ
نوجوان اوپنر سام کونسٹاس، جو اپنے میلبرن ٹیسٹ ڈیبیو پر 60 رنز کی شاندار اننگز اور ویرات کوہلی کے ساتھ تلخ کلامی کی وجہ سے خبروں میں آئے تھے، سڈنی میں بھی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے نظر آئے۔ انہوں نے بمراہ کی پہلی ہی گیند پر زبردست ڈرائیو مار کر چوکا لگایا ، اور دن کے اختتام تک سات رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ آسٹریلیا نے دن کا اختتام 9-1 پر کیا۔
بھارت کی بیٹنگ مشکلات
دن کے آغاز میں بھارتی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن بھارتی بلے باز مشکلات کا شکار رہے۔ پوری ٹیم صرف 185 رنز پر 72.2 اوورز میں آؤٹ ہوگئی۔
سڈنی ٹیسٹ: بھارت کے لیے زندگی اور موت کا سوال
سیریز میں 2-1 سے پیچھے رہنے والی بھارتی ٹیم کے لیے سڈنی ٹیسٹ جیتنا ضروری ہے تاکہ سیریز برابر کرنے کا موقع مل سکے۔ انجریز اور اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار ہے۔
بھارت کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ جلد از جلد میچ پر کنٹرول حاصل کرے، کیونکہ یہ ٹیسٹ سیریز کے نتیجے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔