عدالتی حکم کے باوجود احتجاج پر تحریک انصاف کیخلاف توہین عدالت کیس میں سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا نے تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر گوہر سے بار بار رابطہ کیا مگر پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاج کی کوئی درخواست نہیں ملی۔ متبادل جگہ بھی دی مگر ڈی چوک کی طرف مارچ جاری رکھا گیا۔
سیکرٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ عدالتی ہدایت کے مطابق کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، کمیٹی میں وزیر،سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی شامل تھے، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ بار بار رابطہ کیا گیا۔
تحریری جواب کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین کو نئے قانون کے تحت درخواست دینے کا کہا، پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے لیے کوئی درخواست نہیں ملی، پی ٹی آئی نے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی۔
سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کی کم سے کم مشکلات کے ساتھ شہر میں سیکیورٹی انتظامات کئے، بطور سرکاری ملازم عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق آرڈر کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وزارتِ داخلہ نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد کے تاجروں کی درخواست پر سماعت کی اور وزارتِ داخلہ سے احتجاج سے متعلق رپورٹ طلب کی۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل عبدالرحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ ابھی جمع نہیں کرائی جا سکی اور کچھ وقت درکار ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رپورٹ پیش کرنے میں کیا مسئلہ ہے اور آپ نے عدالت کے آرڈر پر کیا اقدامات کیے۔۔؟۔۔چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت کا آرڈر سادہ تھا کہ امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے لیکن معاملہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ عدالت نے وزارتِ داخلہ کو رپورٹ جمع کروانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔