وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
اتوار کے روز وزیر اعظم شہباز شریف پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کے لئے جاتی امرا لاہور پہنچے اور ان سے دو گھنٹے سے زائد تک ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران مدارس بل پر مشاورت ہوئی اور وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی جبکہ ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ قومی سلامتی ویکجہتی کو نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کیا جائے گا اور کسی کو ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے نہیں دیں گے۔
ملاقات میں 26 نومبر کے واقعات اور سول نافرمانی کی ممکنہ کال پر بھی گفتگو کی گئی وار ملکی معاملات پر حکومتی اتحادیوں سے مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینے پر بھی اتفاق ہوا۔
نوازشریف کی جانب سے وزیراعظم کو ملکی معاشی صورتحال میں بہتری پر مبارکباد بھی پیش کی گئی اور وزیراعظم نے بیرونی سرمایہ کاری میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ بھی کیا۔
خوارج کیخلاف آپریشن میں شہید فوجی جوانوں اور دیگر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور دونوں رہنماؤں نے جاتی امرا میں والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیر اعظم کی دیگر ملاقاتیں
وزیراعظم شہباز شریف سے ان کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
وزیر اعظم سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بھی ملاقات کی جس میں پنجاب کے امور سے متعلق تبادلہ خیال ہوا۔
علاوہ ازیں شہبازشریف رکن قومی اسمبلی رضا حیات ہراج کی رہائشگاہ بھی پہنچے جہاں ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کی۔