قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو دی گئی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔
پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف پورا نہیں ہو رہا جبکہ صنعتوں اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ بھی نہیں ہو رہی، توانائی شعبے میں اصلاحات نہیں ہوئیں، دو ڈسکوز کی نجکاری کیسے کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم نے گردشی قرضے کا بہاؤ 8 ارب ماہانہ تک کم کر دیا تھا لیکن اب گردشی قرضے کا ماہانہ بہاؤ 55 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا اور اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ گیس سیکٹر میں بھی گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے، حکومت کے پاس حل نہیں ہے، حکومت کے پاس ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کیلئے کوئی متبادل پلان نہیں، انٹرنیٹ کی بندش سے آئی ٹی کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، دنیا بہت آگے چلی گئی ہے ہمارے ہاں تھانے داری والا رویہ غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے کہا کہ نوکری کا بندو بست کر لیں، ان کی جگہ بھی کوئی افسر آکر بیٹھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں پچھلے دو تین سال میں کتنی پبلک آفرنگ ہوئی، اسٹاک مارکیٹ کے زیادہ تر شیئرز بڑے بروکرز کے پاس ہیں، چار پانچ لوگ ایک دوسرے کو شیئرز بیچ رہے ہوتے ہیں، بعد میں اربوں بنا کر نکل جاتے ہیں مارکیٹ ایک دم نیچے گر جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی کو آئی ایم ایف وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کی پیش رفت بارے آگاہ نہیں کیا گیا۔