مودی کے دور نے بھارت کے چہرے سے نام نہاد سیکولر ازم کا نقاب نوچ کر ریاستی انتہا پسندی، فاش ازم اور سرکاری دہشتگردی تو بے نقاب کرہی ڈالی۔ ساتھ ہی مسلح افواج کو بھی کرپشن کی فیکٹری میں بدل کر رکھ دیا۔
مودی کے دور میں بھارتی فوج لالچ اور دھوکہ دہی کی دلدل میں دھنس چکی، 14 برس میں انڈین آرمی کی بدعنوانی کے ایک ہزار 80 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
انڈین آرمی نے تو مودی سرکار کی ملی بھگت سے انکم ٹیکس چوری کرنے کیلئے باقاعدہ قانون سازی بھی کرلی ہے۔ میگا اسکینڈلز، بھرتیوں میں سفارش ، ہائی پروفائل کیسز اور دیگر کرپشن کے کیسز معمول کا حصہ بن چکے ۔
حال ہی میں کشمیر میڈیا سروس نے بھارتی فوج میں بدعنوانی کے جال کو بے نقاب کیا۔ کروڑوں روپے کے غبن اور اپنے ہی فوجی بھائیوں کو دھوکہ دہی سے لوٹنے والے میجر امر جیت شاہی کی گرفتاری پر اس کا گروہ بے نقاب ہوا۔
اس سے پہلے بھارتی فوج کے افسران مُفت راشن ہڑپنے میں ملوث رہ چکے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی افواج میں کرنل سے اوپر کے رینک کے افسران کو سی ایس ڈی سے مفت شراب کی مراعات حاصل ہیں جبکہ افسران مفت شراب لے کر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔
گزشتہ کئی سال سے جاری بھارتی فوج کی کرپشن ، بدعنوانی اور دھوکہ دہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی کرپشن کی پشت پناہی کر رہا ہے۔





















