سماء ٹی وی کے معروف پروگرام "دوٹوک کرن نازکےساتھ" میں گورنرخیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نےوزیراعظم کوکہا وزیراعلیٰ کےپی کواجلاس میں بلاناچاہیے، میری درخواست پر علی امین گنڈاپورکواجلاس کی دعوت دی گئی۔
گورنرخیبرپختونخوا ورہنماء پاکستان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے بات کرتے ہوئےکہا کہ ہم کشکول توڑنےکاسفر شروع کررہےہیں،گوہم بھی کہتےہیں تمام صوبوں کوملکرملک کوبحران سے نکالنا چاہیے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوایس آئی ایف سی اجلاس میں نہیں بلایاگیاتھا، میں نے وزیراعظم کو کہا وزیراعلیٰ کے پی کو اجلاس میں بلانا چاہیے، میری درخواست پرعلی امین گنڈاپور کو اجلاس کی دعوت دی گئی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اجلاس میں جانا اچھی بات ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بیرسٹرسیف کی باتوں کاجواب ان کےلیول پرجاکرنہیں دینا چاہتا، بیرسٹرسیف میرےلیول پر آجائیں تو بات کرلیں گے، ڈنڈے کے ذریعے بجلی کےمسائل حل نہیں ہوں گے، لوڈشیڈنگ کےمسائل ہیں،بیٹھ کرحل نکالاجاسکتاہے، حملےکرنےہیں یا بٹن سوئچ آف آن کرنا ہےتو تینوں ڈسکوزان کےحوالےکردیں، صوبےکوڈسکوز لینےکی خواہش ہے تومیں ساتھ ہوں، لوڈشیڈنگ کےمسئلےپرہم نےملکرمرکزسےبات کرنی ہے۔
گورنرخیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور اداروں کے درمیان کشیدگی کاحل نکلناچاہیے، ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیے، مذاکرات کے ذریعےمسائل حل ہونےچاہئیں، ملک اداروں کے ٹکراؤ کا متحمل نہیں ہوسکتا، وفاق سے پہلے صوبےکابجٹ پیش کرنےکی روایت نہیں رہی ہے، خیبرپختونخوا کابجٹ اچھا ہوا توتعریف کریں گے، بجٹ اچھا نہیں ہوا تو تنقید کی جائےگی۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کےٹیکس کےحوالے سے مسائل ہیں، وزیراعلیٰ کودیکھنا چاہیے سابق فاٹا کیلئے جتنے پیسے آئے وہ کہاں خرچ ہوئے، پنجاب حکومت نےہتک عزت بل لانےمیں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے، سیاسی جماعتیں بھی ہتک عزت بل پرخوش نہیں ہیں، بل پرتمام سیاسی جماعتوں اورمیڈیا نمائندوں کی کمیٹی بننی چاہیےتھی، تمام سیاسی جماعتوں،میڈیا اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈلیکربل آتاتواچھی بات ہوتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھائی وزیراعظم اوربیٹی وزیراعلیٰ ہوتونوازشریف کاشکوہ نہیں بنتا، نوازشریف کوکوئی تحفظات ہیں توقانونی طریقہ اختیارکرناچاہیے، رؤف حسن تحریک انصاف میں سنجیدہ شخص ہیں، رؤف حسن پرحملے کی مذمت کرتاہوں، پی ٹی آئی نےاتنا مشکل وقت نہیں گزارا جتناپیپلزپارٹی نےگزارا ہے۔






















