ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نےکہا ہےکہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اورپاکستان کواس کےجائزحصے سےمحروم کرنےکی کوئی بھی کوشش خطے کےامن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نےواضح کیا ہےکہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی نام نہاد معطلی یا اس سے انحراف کی بھارتی کوشش غیرقانونی،یکطرفہ اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے
ترجمان دفترخارجہ طاہراندرابی نےسندھ طاس معاہدے کےحوالےسےمنعقدہ ایک سیمینارکا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ’سندھ طاس معاہدہ، امن اورعلاقائی استحکام کا ضامن‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں سیاسی رہنماؤں،قانونی ماہرین، بین الاقوامی اسکالرز، سفارتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کےمطابق وزیراعظم پاکستان ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کے نماز جنازہ اورتدفین میں شرکت کیلئےایران جائیں گے،انکے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈارسمیت وفاقی کابینہ کے دیگر وزرا بھی ہوں گے۔
شہبازشریف پاکستانی قوم اورحکومت کی جانب سےایران سےتعزیت اور یکجہتی کا اظہار بھی کریں گے، دورہ ایران کےبعدشہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گےجہاں علاقائی امن وسلامتی اورتجارت سمیت اہم امور پردوطرفہ تعاون بڑھانے پربات ہوگی،وزیراعظم کا دوملکی دورہ تین سے پانچ جولائی تک جاری رہے گا۔
ترجمان دفترخارجہ نےکہا کہ پاکستان قطری شراکت داروں کے ساتھ سہولت کار اور ثالث کے طور پر اپنا کردارجاری رکھے گا،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئےسعودی عرب، چین، بحرین اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان کےمطابق سندھ طاس معاہدے کےحوالے سےمنعقدہ سیمینار میں سیاستدانوں،سفارتی برادری اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نےشرکت کی،شرکا نےسندھ طاس معاہدےکوبرقرار رکھنے،تنازعات کے حل کےلیےسفارتی ذرائع اپنانے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کی روک تھام پر زور دیا۔






















