انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کے کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں، سندھ طاس معاہدہ آج بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا، یہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی اور تکنیکی معاہدہ ہے۔
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت یک طرفہ طور پر اسے سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن کی بنیاد ہے جس پر سیاسی گفتگو یا یکطرفہ اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں۔
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت سے جڑا ہوا ہے اور یہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔ پاکستان اپنے حصے میں آنے والے پانی کے ہر قطرے کا تحفظ کرے گا اور اپنے قانونی حق پر کسی قسم کا دباؤ یا جبر قبول نہیں کرے گا۔
کمشنر سندھ طاس معاہدہ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ بھارت مغربی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا خلل پیدا نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنا معاہدے کی روح اور اس کی شرائط کے منافی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اگست 2023 سے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی بعض ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا، جو نہ صرف معاہدے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔





















