بلند پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز پگھلنے لگے۔ دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہونے لگا۔ 3 بڑے آبی ذخائر میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 34 لاکھ 3 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ گیا۔
ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد دو لاکھ 26 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 50 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 37 ہزار 600 اور اخراج 38 ہزار 700 کیوسک رہا۔
رپورٹ کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد دو لاکھ 5 ہزار جبکہ اخراج دو لاکھ 3 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 63 ہزار 700 اور اخراج 36 ہزار 900 کیوسک رہا جبکہ دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج 48 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ترجمان واپڈا کے مطابق 3 بڑے آبی ذخائر میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 34 لاکھ 3 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 453.07 فٹ اور ذخیرہ 11 لاکھ 11 ہزار ایکڑ فٹ، منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح ایک ہزار 162.85 فٹ اور ذخیرہ 22 لاکھ 43 ہزار ایکڑ فٹ جبکہ چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 641 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 49 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔
درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز پگھلنے لگے، دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ
بڑے آبی ذخائر میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 34 لاکھ 3 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ گیا




















