اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے دوٹوک اعلان کردیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ جب تک مفاہمتی یادداشت کی تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، ایران حتمی مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، اور حالیہ ملاقاتوں کا واحد مقصد ان وعدوں کو پورا کرانا ہے۔
انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں اصرار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل خودمختاری صرف ایران اور عمان کی ہے۔
قالیباف نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو بغیر ٹول ٹیکس گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے دی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد مہنگا بیچ رہا ہے اور سمندری ناکہ بندی کے بعد سے اب تک 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل کامیابی سے برآمد کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو تیل بیچنے سے روکا گیا، تو پھر دنیا کا کوئی بھی ملک اس خطے سے تیل کا فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔






















