امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں اہم ملاقات ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے برقرار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہاکہ ’ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل دوحہ میں ہوگی۔‘‘
تاہم اس اعلان سے کچھ ہی دیر قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت سے متعلق تکنیکی مذاکرات اس ہفتے طے نہیں ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ قطر کے ساتھ مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم دوحہ میں ورکنگ گروپس کے تکنیکی مذاکرات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات مناسب حالات اور شرائط پوری ہونے کے بعد ہوگی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی اور ایرانی بیانات میں بظاہر تضاد پایا جاتا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غریب آبادی کے بیان کے بعد ملاقات کے انعقاد پر پیش رفت ہوئی ہو۔ دوسری جانب ایران نے تاحال باضابطہ طور پر مذاکرات کی تاریخ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر دوحہ میں امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے دوحہ روانہ ہوں گے، جہاں مفاہمتی یادداشت سے متعلق اعلیٰ سطح کے مذاکرات کیے جائیں گے۔






















