سوئٹزرلینڈ میں رواں ہفتے شیڈول امریکا ایران مذاکرات معطل ہوگئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شیڈول مذاکرات آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث معطل ہوئے، مفاہمتی یادداشت کے بعد تکنیکی ٹیموں کے مذاکرات ہونے تھے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فریقین نے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم پچھلے دو دن لگاتار جھڑپوں کے باعث مذاکرات کھٹائی میں پڑ گئے۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا ایران مذاکرات معطل نہیں ہوئے، امریکی عہدیدار نے بتایا مذاکرات شیڈول کے مطابق منعقد ہونگے، فریقین ڈی کنفلکشن چینلز کے ذریعے مسلسل پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بھی آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم نہ ہوسکی۔ گزشتہ دو دن سے ایران اور امریکا پھر ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔
امریکی فوج کے صدر ٹرمپ کی ہدایات پر ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حملوں پر ایرانی افواج نے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرونز داغ دیے۔ امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی لگا دی، کہا مزید تحمل ممکن نہیں۔۔ ایسا نہ ہو ایران کا وجود ہی باقی نہ رہے۔
ایران نے امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے۔ آئندہ خلاف ورزی کرنے پر سخت اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔






















