اتوار کے دن پورے یورپ میں جھلسا دینی والی گرمی کا راج ہے۔ 19 کروڑ سے زائد یورپی شہری معمول سے زائد درجہ حرارت کا سامنا کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولینڈ، ہنگری اور چیک رپبلک کی پوری آبادی ہیٹ ویو کی زد میں ہے۔ پولینڈ میں آج گرمی کا انیس سو اکیس میں قائم ہونے والا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے جو چالیس اعشاریہ دو سینٹی گریڈ ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق 24 جون سے 27 جون کے درمیان معمول سے ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں۔ جبکہ اس دوران اسپین میں ہیٹ ویو کے باعث 327 اموات رپورٹ ہوئیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے جو علاقے ریڈ الرٹ میں آتے ہیں وہاں پر گرمی کے بدترین اثرات سامنے آئے ہیں اور مرنے والوں میں سے 85 فیصد تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی عمر 65 برس یا اس سے زیادہ ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی اس تیز ترین لہر کے دوران زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے اندر ہی جان سے گئے اور ایسے علاقوں میں ایل ڈی فرانس، پیرس اور مضافاتی علاقے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور یہ امکان بھی موجود ہے کہ حقیقی تعداد سے اس سے کہیں زیادہ ہو۔
واضح رہے کئی روز سے یورپ میں گرمی کی لہر جاری ہے اور فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے سنیچر کو بتایا تھا کہ 18 جون سے اب تک ملک میں کم از کم 74 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران مسلسل تیسرے روز جون کے مہینے کا درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں ہفتے کے روز 39 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔






















