یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث ایشیائی کمپنیوں کے ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔
رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی سام سنگ اور ایل جی، چین کی کمپنی ’میڈیہ ‘اور جاپان کی مٹسوبشی الیکٹرک کو یورپی ممالک میں ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
سام سنگ کا کہنا ہے کہ اٹلی، اسپین اور فرانس میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں ڈبل ڈیجٹ کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایل جی کے مطابق جنوبی کوریا میں اس کی ایک فیکٹری اپریل سے مکمل پیداواری صلاحیت پر کام کر رہی ہے تاکہ کوریا اور عالمی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔
چینی کمپنی میڈیا نے بتایا کہ مئی کے آخری دو ہفتوں میں شدید گرمی کی لہر کے باعث اس کے پورٹا اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کی طلب میں زبردست اضافہ ہوا، بعض مارکیٹوں میں یہ ماڈل مکمل طور پر فروخت ہوگیا جبکہ استعمال شدہ یونٹس کی قیمتیں بھی نئے یونٹس سے زیادہ ہو گئیں۔
چینی کمپنی ’میڈیہ ‘کے مطابق جرمنی میں مئی کے دوران آن لائن فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد بڑھ گئی، جبکہ اسپین اور فرانس کو ایئر کنڈیشنرز کی ترسیل میں 108 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں پرانی عمارتوں کے باعث ایئر کنڈیشنرز کی تنصیب مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے، جہاں ایک یونٹ کی تنصیب پر ایک ہزار یورو سے زائد لاگت آ سکتی ہے، جو کئی خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یورپ میں صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنرز موجود ہیں۔
جاپانی کمپنی مٹسوبشی الیکٹرک کا کہنا ہے کہ فرانس، اسپین، برطانیہ اور جرمنی میں گرمی کی شدید لہر کے باعث ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
شدید گرمی کے پیش نظر متعدد کمپنیوں نے اپنے ملازمین، خصوصاً ڈیلیوری اسٹاف کے تحفظ کے لیے کولنگ ٹاولز، پانی سے ٹھنڈے ہونے والے کلائی بینڈز اور دھوپ سے بچاؤ کے خصوصی حفاظتی سامان کی فراہمی بھی شروع کر دی ہے۔





















