امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیاہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 4 خود کش ڈرونز داغے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے خودکش ڈرونز میں سے ایک بڑے اور انتہائی قیمتی مال برادر جہاز کے بالائی حصےسے ٹکرایا اس سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم نے دیگر تین ڈرون مار گرائے، واضح طور پر یہ ہماری جنگ بندی کے معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔
ایک اور پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ میرے دور میں غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں کسی بھی امریکی صدر کے دور سے زیادہ رہیں،حراست اور ملک بدری کے اعداد و شمار ریکارڈ سطح پر ہیں،ملک بدری کے بہت سے حتمی احکامات عدالتوں کی طرف سے زیر التواءہیں،12ماہ کے دوران ملک بدر کیے گئے افراد کی تعداد کسی بھی دور سے زیادہ رہی،میڈیا اور ڈیموکریٹس غلط اعداد و شمارپیش کر رہے ہیں،اوباما دور کے اعداد و شمار کا موجودہ انتظامیہ سے موازنہ درست نہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر 3 بحری جہازوں کا راستہ روک دیاتھا، ایرانی نیوی کا کہناہے کہ تینوں جہاز مقررہ راستے سے ہٹ کر سفر کررہے تھے۔پاسداران انقلاب کی وارننگ کے بعد جہاز واپس مڑ گئے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو متوازی راستوں اور ایران کو نظر انداز کرکے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا،انتظامی فریم ورک اسلام آباد میمورنڈم کی شق 5 کے مطابق ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں متوازی بحری راستے کی معطلی ناگزیر ہوگی۔
کچھ دیر قبل ایرانی افواج کی مشترکہ کمانڈ خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود میں اسرائیلی طیارے ایران کی جانب آتے دیکھے گئے۔ہمسایہ ممالک کی فضاؤں میں اسرائیلی طیاروں کی موجودگی خطرناک اقدام ہے، ایران اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہا تو ایران مناسب جواب دینے کا حق رکھتا ہے، ایران اپنے خلاف کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔






















