پاسدارانِ انقلاب نے ایران کے منظوری کے بغیر نئے شپنگ روٹ کا اعلان ناقابلِ قبول قرار دیدیا۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہےکہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ان مخصوص روٹس کے ذریعے ہی ممکن ہےجو ایران نےباقاعدہ طورپرمقررکیےہیں،محفوظ آمدورفت صرف ایران کےمقرر کردہ راستوں سے ممکن ہے،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایرانی ہدایات پر عمل کریں۔
ایرانی پاسداران نےخبردارکرتےہوئےکہا کہ آبنائے ہرمز سےگزرنے کے لیےپاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے، ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب قطرکے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہےکہ آبنائے ہرمز سےگزرنے پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرینگے،ایران نےکوئی مجوزہ ماڈل پیش کیا تو انہیں اس کےحق میں دلائل دینا ہوں گے اور ہمیں ایران کے مجوزہ ماڈل کا جائزہ لینا ہوگا۔
قطری وزیراعظم کاکہنا تھاکہ دنیا تک ہماری رسائی کےواحد راستے پر کسی اورکاکنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا،امیدہے 30 دن میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلےکی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔
ایران کےچیف مذاکرات کارمحمد باقرقالیباف کا آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےکہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت دباؤ اورجبرکا نتیجہ نہیں،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اورطاقت کا مظہر ہے۔
باقر قالیباف کاکہنا تھا اسلام آبادمفاہمتی یادداشت امریکاکی شکست کا اعلان بن گئی ہے،خطےکے ممالک علاقائی سلامتی کو خود یقینی بنائیں،بیرونی مداخلت مسترد کریں،خطے کے ممالک کے ساتھ خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔






















