ایرانی اسپیکر باقرقالیباف نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد انہوں نے جے ڈی وینس کے سامنے مذاکراتی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا ، مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے تو پاکستانی ثالث دوبارہ بیچ میں آئے ، ان کی بدولت ہی 80 منٹ کے بالواسطہ مذاکرات ہوئے ۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا کہناتھا کہ ہم اجلاس کے ہال میں داخل ہوئے اور مذاکرات کا آغاز کیا، بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی تھی اور کوئی مسئلہ نہیں تھا، ہم تقریباً ابتدائی مذاکرات کے اختتامی مرحلے میں پہنچ چکے تھے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ عین اسی دوران جب ہم مذاکرات کر رہے تھے تو صدر ٹرمپ نے نہایت دھمکی آمیز انداز میں ہماری مذاکراتی ٹیم ، ہمارے صدر اور حتیٰ کہ ہمارے ملک پر حملے کے حوالے سے بیانات دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اسی وقت جے ڈی وینس سے کہا مسٹروینس، ہم یہاں مذاکرات کر رہے ہیں اور ہم نے جس مفاہمت پر دستخط کیے ہیں اس کی پہلی شق یہ ہے کہ کوئی دھمکی یا جبر نہیں ہو گا لیکن آج آپ کے صدر نے دھمکی اور زور زبردستی کی زبان استعمال کی ہے، یہ جان لیں کہ ہم کبھی بھی دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں مذاکرات نہیں کرتے۔ اس کےبعد ہم نے مذاکرات ختم کر دیے، اجلاس چھوڑ دیا اور واپس نہیں گئے ۔
ان کا کہناتھا کہ بعدمیں ایک اورملاقات کی تجویز دی گئی کہ امریکی وفد کیساتھ ثالثوں کی موجودگی میں بات چیت کی جائے لیکن ہم نے یہ تجویز بھی قبول نہیں کی اور اجلاس ترک کر دیا۔ بعد ازاں پاکستان کے معزز وزیرِاعظم ، فیلڈمارشل عاصم منیر،قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ بطور ثالث ہمارے پاس آئے، ہم نے ان سے گفتگو کی ۔ ان کے پاس کچھ نکات تھے اور ان کی رائے تھی کہ اس مرحلے کو کسی نتیجے تک پہنچایا جائے۔
باقر قالیباف کا کہناتھا کہ ہم نے ان سے کہا ہم آپ سے بات کریں گے لیکن فی الحال امریکی وفد کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے، چنانچہ ان 80 منٹ کی بات چیت اور مذاکرات کے دوران جن امور پر گفتگو ہوئی انہیں اسی بنیاد پر حتمی شکل دی گئی اور اس کا خلاصہ وہ بیان تھا جو بعد میں دونوں ثالث ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا۔






















