ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے کیلئے تیل کی برآمدات کی اجازت اور منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے۔
ایک بیان میں ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں نے اس مرحلے پر اپنا کام مکمل کر لیا تاہم تکنیکی ٹیموں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ تیل کی فروخت اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے میں اچھی پیش رفت ہوئی، حتمی معاہدے کیلئے تیل کی برآمدات کی اجازت اور منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے، لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کیلئےنیا نظام قائم کیا گیا، حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے اہم اقدامات پر اتفاق ہو گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قطرکی ثالثی میں لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
سوئٹزر لینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےکہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی گئی ہے جبکہ تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کی پابندیاں ختم کردی گئی،ایران کےلیے تعمیرنو اور ترقی کا بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔





















