امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے تکنیکی مذاکرات سے تمام تنازعات حل نہ ہوں، لیکن ان مذاکرات میں تاریخ میں پہلی بار ہمیں ایک ساتھ بیٹھنے کا موقع دیا۔
سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر پاکستانی اور قطری وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ 3 دن پہلے کی صورتحال 3ہفتے اور 3ماہ پہلے سے مختلف ہے، پچھلے چند دنوں میں بہت ہی حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امن آسان نہیں ہے، ہم لبنان سمیت تمام محاذوں پر امن کیلئے کام کررہے ہیں، صدر ٹرمپ پورے خطے میں جنگ بندی کیلئے پرعزم ہیں، ایران خطے کے استحاکم میں اہم کردار کے طور پر ابھرا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی نوعیت تبدیل کرسکیں گے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان تین ماہ کے دوران اُنھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ کسی بھی اور شخصیت کے مقابلے میں سب سے زیادہ بات چیت کی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران علاقائی ممالک کے لیے عدم استحکام کا باعث بنتا رہا ہے، لیکن اب ایک نئی اور مثبت تصویر سامنے آرہی ہے۔ یرانی قیادت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار چھوڑ دے تو ہم سب ملک کر امن اور خوشحالی کیلئے کام کرسکتے ہیں۔





















