مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے قاہرہ میں پاکستان اور سعودی عرب سمیت 4 بڑے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اسلام آباد معاہدے کو کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے حل کی جانب بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا گیا۔ اجلاس میں فلسطینی کاز کی حمایت ، خطے میں امن و خوشحالی کے لیے مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خطے اور دنیا کو جنگوں سے بچانے اور خوشحالی لانے کی مشترکہ کوششوں کے سلسلے میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں چار علاقائی وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرا نے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی مشاورت کی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ایم او یو کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے خاتمے کی جانب مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا گیا۔ افہام و تفہیم کے فروغ ، فریقین کے وعدوں پر عملدرآمد اور مذاکرات کے بعد کے مرحلے کو کامیاب بنانے پر زور دیا گیا۔ تاریخی پیش رفت تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی اہم سفارتی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ دیگر مسائل کا بھی پائیدار اور تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ اِن کوششوں میں خطے کے ممالک کے خدشات بالخصوص خلیجی عرب ریاستوں اور شام کے امن و استحکام کو مدنظر رکھا جائے۔
اجلاس کے شرکا نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے خطے میں مستقل امن کے لیے گروپ کے قیام کے وژن کو سراہا۔ مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی سلامتی و خوشحالی کے لیے مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فلسطینی کاز مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا مرکز قرار دیا۔
اجلاس میں غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔۔ چاروں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔






















