ایران کی فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیاہے اور بندش کی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیاں اور جنوبی لبنان میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قرار دی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق سمجھوتے کی ’واضح خلاف ورزی‘کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے اسرائیل پر بھی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں، شہریوں کے قتل، جبری نقل مکانی اور علاقے سے انخلا نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ’پہلا قدم‘ہے اور اگر مبینہ خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے ذریعے خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔
تاہم خبر فائل کیے جانے تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بندش یا کسی بڑی رکاوٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی حکام نے آبنائے ہرمز کی بندش کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری راستے کی بندش یا شپنگ ٹریفک میں خلل کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر سمیت اعلیٰ امریکی حکام سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور جاری مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد سفارتی پیش رفت کی رفتار برقرار رکھنا اور کسی ممکنہ بڑی پیش رفت کی راہ ہموار کرنا ہے۔





















