سوئس وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ برگن اسٹاک میں مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے خفیہ اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کر رہے ہیں،مختلف ممالک کے سفارتکار مکالمے کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،رازداری کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں شریک افراد سے متعلق معلومات نہیں دے سکتے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ایم او یو سائن ہونےکےبعد مذاکرات کا پہلا دور آج ہونے جارہا ہے،امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیووٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے،جیرڈ کشنر پہلےہی برگن اسٹاک میں موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کےمطابق اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شرکت کریں گے،مذاکرات کی حتمی تاریخ اور وقت طےنہیں پایا،نائب امریکی صدرجے ڈی وینس کی بھی مذاکرات کیلئے سوئٹزر لینڈ روانگی متوقع ہے۔
دوسرہ کامب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا بھی آج سوئٹزرلینڈ جانےکامنصوبہ ہے،امریکی صحافی نےدعوی کیا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ نے ثالث ممالک کو آگاہ کردیا،ایران نےامریکا کے ساتھ مذاکرات کو لبنان میں سیز فائر سےمشروط کیا تھا،ایران چاہتا ہےسوئٹزرلینڈ مذاکرات سےپہلےاسرائیل لبنان سیز فائرنافذ ہو،یادرہےکہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو مذاکرات کا پہلا دورملتوی ہوگیا تھا۔





















