خیبر پختونخوا کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ نہ تو متوازن ہے اور نہ ہی سرپلس بلکہ یہ پچاس ارب روپے خسارے کا بجٹ ہوگا۔
شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ۔ صوبائی بجٹ حقیقی آمدن پر مشتمل ہے اور اس کا تمام کریڈٹ وزیراعلی سہیل خان آفریدی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کوجاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ کا کل حجم دو ہزار 275 ارب روپے ہے۔ آئندہ سال صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا حجم ساڑھے 500 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے۔
قابل تقسیم محاصل سے صوبے کا حصہ1 ہزار 443 ارب روپے ہے، بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق سے 100 ارب روپے ملیں گے۔ فارن ایڈ سے 150 ارب روپے کا ملنے تخمینہ ہے ۔27 ارب آئل اینڈ گیس رائلٹی سے ملنے کی توقع ہے ۔95 ارب روپے وفاق ضم اضلاع کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے دے گی۔ صوبے کی اپنی آمدن کا تخمینہ 150 ارب روپے سے زائد کا لگایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 550 ارب روپے سے زائد ہے، جس میں 2500 منصوبے شامل ہیں، ترقیاتی بجٹ کا 80 فیصد جاری منصوبوں کے لئے مختص کیا جائے گا۔ صحت کارڈ کے لئے 50 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات کے لئے 15 ارب روپے مختص کئے جائیں گے، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر پر 56 ارب روپے خرچ ہونگے۔
بجٹ میں ضم قبائلی اضلاع کے لئے 1000 ارب روپے کا روشن پاکستان اور ساڑھے 9 ارب روپے سے 72 چیف منسٹر ماڈل اسکول منصوبہ بھی شروع ہورہا ہے ۔ بے روزگار نوجوانوں ،پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بلا سود قرضے دینے، کسانوں کو زرعی مشینری اور دیگر سہولیات دینے کے منصوبے بھی بجٹ میں شامل ہیں۔



















