امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ڈیل کے بہت قریب ہے جس سے سمیت خطے میں امن قائم ہوگا، آج بیروت پر اسرائیل کا حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی، وہ بہت معمولی تھا، اس میں کوئی شخص ہلاک، زخمی یا متاثر نہیں ہوا، معمولی حملے کو اس اہم عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لبنان پر اسرائیل کے مزید حملے نہیں ہونے چاہیں، حزب اللہ اور کسی اور کا اسرائیل پر بھی حملہ نہیں ہونا چاہیے، یہ معاہدہ امن کے آغاز کی صورت اختیار کر سکتا ہے، اسے ضائع نہ کریں۔
دوسری جانب نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ طے شدہ معاہدہ اتوار کو بھی شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، نیتن یاہو میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں، اس کی وجہ سے دستخط میں تاخیر ہوئی۔ نیتن یاہو کو حملہ کرنےکی کیا ضرورت تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ابھی ہونا تھا، لیکن اب یہ چند گھنٹوں بعد طے ہے، مشیروں نے بیروت حملے کی اطلاع دی تو میں حیران رہ گیا، میں نے اسے کہہ دیا تم سمجھ بوجھ سے عاری ہو، میں غصے میں تھا۔
قبل ازیں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر بیروت کے جنوبی علاقے الضاحية پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے تو امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں۔ باقر قالیباف نے کہا کہ صہیونیوں کی الضاحية میں دراندازی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس انہیں پورا کرنے کی منشا نہیں ہے۔
واضح رہے کہ آج مفاہمی یادداشت پر دستخط سے پہلے اسرائیل نے بات چیت کا عمل سبوتاژ کرنے کےلیے بیروت پر میزائل داغ دیے۔ حملے میں 3 لبنانی شہید 6 زخمی ہوگئے۔






















