ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کرکے علاقائی سیکیورٹی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔
ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کردیا کہ نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تمام ممالک کی شمولیت اوراجتماعی تعاون کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ پائیدار سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا لپ معاہدے کا بنیادی مقصد جنگ کا فوری خاتمہ ہے۔ اس مرحلے پر جوہری پروگرام سے متعلق کوئی شق ایم او یو کا حصہ نہیں۔ اگلے ایک دو دن میں معاہدے پر دستخط ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کب ہوگا؟ کشمکش برقرار ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اورایران آج مفاہمتی یادداشت پردستخط کریں گے۔ ورچوئل اجلاس پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اورایرانی اسپیکر باقرقالیباف کی شرکت متوقع ہے۔






















