وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اہم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے کو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اس رقم سے مستحق طلبہ کے لیے وظائف، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن، ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی
سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، قابل تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت کے شعبوں میں تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔
بنیادی تعلیم
بنیادی تعلیم، کالج تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے وژن کے مطابق تعلیم کے مواقع معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کی نمایاں مثال دانش اسکولز ہیں، جو باصلاحیت مگر کم وسائل رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں دانش اسکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن سے اساتذہ کی تربیت، داخلوں میں اضافہ، ابتدائی بچپن کی تعلیم کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دیا جائے گا۔
اسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے NAVTTC کے تحت وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو جدید دور کی معیشت کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔





















