پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز، پی این ایس/ایم ہنگور، پاکستان کے ساحلوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ بحیرۂ عرب کی وسعتوں میں ابھرتا یہ منظر محض ایک آبدوز کی آمد نہیں بلکہ پاکستان کی بحری قوت، دفاعی خود اعتمادی اور جدید عسکری صلاحیتوں کی ایک نئی علامت ہے۔
آج پاکستان کی سمندری تاریخ میں ایک اہم باب رقم ہو رہا ہے۔ یہ آبدوز پاک بحریہ کے فلیٹ میں شامل ہو کر نہ صرف ملکی بحری دفاع کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور سمندری سلامتی کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
ہنگور نام پاکستان کی بحری تاریخ میں جرات، مہارت اور پیشہ ورانہ برتری کی علامت ہے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز کھکری کو غرقِ آب کر کے تاریخ رقم کی تھی، جبکہ ایک اور جنگی جہاز کرپان کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اسی تاریخی اور قابلِ فخر روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی ہنگور کلاس آبدوزوں کو یہ نام دیا گیا ہے۔
چین میں تیار کی جانے والی یہ جدید آبدوز جدید ترین کامبیٹ سسٹمز، سینسرز، سونار، ریڈار اور ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اس میں جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی موجود ہے جو اسے دشمن کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے مؤثر کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ آبدوز طویل فاصلے تک مار کرنے والے تارپیڈوز اور کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پی این ایس/ایم ہنگور کی ایک نمایاں خصوصیت ایئر اِنڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) نظام ہے، جس کی بدولت یہ طویل عرصے تک زیرِ آب رہ کر آپریشنز سرانجام دے سکتی ہے۔
آج کراچی کے ساحل پر پہنچنے والی یہ نئی ہنگور اپنی تاریخی پیش رو کی روایات کی امین بھی ہے اور مستقبل کی بحری جنگی ضروریات کا جواب بھی۔ ہنگور ایک نام نہیں، بلکہ پاکستان کی سمندری طاقت، قومی عزم اور دفاعی صلاحیت کا استعارہ ہے- دشمن کے لیے ہنگور کل بھی خوف کی علامت تھی اور آج بھی سمندروں پر ہماری برتری کا اعلان ہے۔




















