مالی سال 2025-26 کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت ایک کروڑ 36 لاکھ میٹرک ٹن رہی، گھریلو سیکٹر میں پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال 51 فیصد کم ہو گیا۔
اقتصادی سروے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر پٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا صارف رہا، جہاں کھپت میں 6.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کل طلب کا 82 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت ایک کروڑ میٹرک ٹن سے بڑھ کر ایک کروڑ 12 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب صنعتی شعبے میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی شعبے میں کھپت 42.6 فیصد کم ہوئی۔
صنعتی سیکٹر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت 7 لاکھ 54 ہزار میٹرک ٹن سے کم ہو کر 4 لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن رہ گئی، جبکہ صنعتی شعبے کا کل طلب میں حصہ 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
پاور سیکٹر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، گھریلو سیکٹر میں پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال 51 فیصد کم ہو گیا،مالی سال 26-2025 میں 8 ارب 93کروڑ31 لاکھ ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں ۔
جولائی تا مارچ 2025 کی نسبت جولائی تا مارچ 2026 کےدوران 8ارب 93 کروڑڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد ہوئیں، 2025 کے مقابلے میں 2026 میں 53 کروڑ ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں۔
جولائی سے مارچ 2025 تک پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8ارب 40 کروڑ ڈالر رہا، جولائی سے مارچ 2026 کے دوران 2 ارب 96 کروڑ ڈالر کا پیٹرول منگوایا گیا، اسی عرصے کے دوران 5 ارب ڈالر کا خام تیل منگوایا گیا ۔74 کروڑ 79 لاکھ ڈالرکا ڈیزل، 13 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کا ہائی اوکٹین منگوایا گیا ۔




















