وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پاکستان پوسٹ کا دورہ کیا جس دوران اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس دوران پاکستان پوسٹ میں اصلاحات اور تنظیم نو کیلئے اہم فیصلے کیئے گئے جبکہ ایک ہفتے کے بعد دوبارہ اجلاس طلب کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی خود مختاری کے لئے پاکستان پوسٹ آئندہ 3 برسوں کے لئے بزنس پلان مرتب کرے، پاکستان پوسٹ کے ادارے کو بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا،پاکستان پوسٹ میں پرانی روش کو بدلنا اور بہتری لانا ہو گی۔
وفاقی وزیر مواصلات نے پاکستان پوسٹ کو منافع بخش بنانے اور بہتر ورکنگ ماڈل لانے کی ہدایت کی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کے مستقبل کا دارومدار کارکردگی کو بہتر بنانے پر منحصر ہے، ہر ملازم احساس کرے، سب کو مل کر بیٹھنا اور ادارہ جاتی اصلاحات لانا ہونگی۔
عبدالعلیم خان نے پاکستان پوسٹ کو 3 ماہ میں واضح پلان پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ نئے ڈائریکٹر جنرل ذمہ داری لیں اور گزشتہ برسوں کی کمی دور کریں ، پاکستان پوسٹ میں بہتری نہ آئی تو اس ادارے کی نجکاری پر مجبور ہونگے۔
ان کا کہناتھا کہ ادارے کو فائنل وارننگ ہے، اب تاخیر اور کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان پوسٹ کے 20 ہزار ملازمین کو اپنے تحفظ کے لئے خود کام کرنا ہو گا، پاکستان پوسٹ میں ٹھوس بنیادوں پر بہتری کے اقدامات کرنا ہونگے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجی شعبے کو شامل اور دن رات کام کریں، شعبے آؤٹ سورس کریں، پاکستان پوسٹ کے سالانہ خسارے کو کم کرنے کے لیے دیرپا پالیسی اپنانا ہو گی، مالی خود مختاری حاصل نہ کی تو ادارے کو بچانا مشکل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ اور مقابلے کی فضاء کے مطابق پاکستان پوسٹ میں حقیقی بہتری کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں پاکستان پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل سکوارڈن لیڈر (ر) مقصود احمد نے بریفنگ دی ۔





















