خلیجِ عمان میں امریکی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام کے بعد امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانےپرفوجی کارروائی کی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں قیشم، سیرک، میناب اور بندرعباس سمیت کئی شہردھماکوں سے گونج اٹھے،دوسری اور تیسری لہر میں بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی صدر نےکارروائی کی تصدیق کرتے ہوئےکہاکہ یہ حملے امریکی ہیلی کاپٹر پر مبینہ حملے کا جواب ہیں اوراس واقعے پرردعمل "بہت سخت"ہونا چاہیےتھا،امریکی افواج نےخطے میں اپنےاہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کےمطابق امریکی افواج نےمخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، دعویٰ کیاگیا ہےکہ آبنائے ہرمز کےقریب ایران کےفضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو تباہ کیا گیا، اس کارروائی کا مقصد ایران کو ایک واضح انتباہی پیغام دینا تھا۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کےمطابق سیرک شہرمیں حملوں کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام شدید متاثرہوا،حملوں کےبعدمتاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذکردی گئی جبکہ نقصانات کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نےجوابی کارروائی کرتے ہوئےخطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،ترجمان کےمطابق بحرین کویت اور اردن میں امریکی اہداف پر میزائل داغے گئے،بوشہر میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےسخت ردعمل دیتے ہوئےکہا ہرحملے کا جواب دیا جائے گا،محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو خطے سے نکل جائیں ،واضح کیا کہ ہماری طاقتورمسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کو بغیر جواب کےنہیں چھوڑیں گی ،میدانِ جنگ میں اپنی ناکامیوں کے باوجود امریکہ نے ہمارے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا،خلیجِ فارس کی تاریخ بیرونی مداخلت کرنے والوں کے عبرتناک انجام کے کئی ابواب پر مشتمل ہے






















