مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے،ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے نے خطے کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا۔
ایرانی ذرائع کےمطابق تہران، تبریز، کرج اور اصفہان سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،اسرائیلی کارروائی کو ایرانی حملوں کاجواب قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نےاسرائیل پرمیزائل حملوں کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہےکہ صیہونی فوجی اہداف کوبیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایاگیا،حملوں کے نتیجےمیں متعدد علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تہران کا کہنا ہےکہ یہ کارروائی بیروت پرہونے والے حملے کے ردِعمل میں کی گئی،ایران نےتمام محاذوں پر جنگ بندی اور سیز فائرکی حمایت کی تھی،تاہم دشمن کی جانب سے لبنان میں جارحیت نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا،دوسری جانب یمن سے اسرائیل میں میزائل حملہ،تل ابیب میں بھی سائرن بج اٹھے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےکہا ایران یا لبنان کےخلاف اسرائیلی کارروائی ناقابل قبول ہے،کسی بھی نئی کارروائی کا تباہ کن جواب دیا جائےگا،خطےمیں کشیدگی کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوتی ہے،ایرانی مسلح افواج نے اسرائیل پردفاعی حملےکیے،لبنان جنگ بندی اپریل معاہدے کا اہم حصہ تھی۔
ایرانی سپریم لیڈر کےمشیرمحمد مخبر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنےبیان میں کہاکہ "دشمن نے لبنان میں جارحیت کرکے مذاکرات کی میز کو آگ لگا دی ہے، اب اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔"





















