گلگت بلتستان انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہےاوراب تک 12 حلقوں کے غیرسرکاری وغیرحتمی مکمل نتائج موصول ہوچکےہیں جن میں سے 6 میں پیپلز پارٹی،ایک نشست پر ایم ڈبلیو ایم، 2 میں ن لیگ جبکہ 5 آزاد امیدوارکامیاب قرار پائے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کےعام انتخابات کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کےمطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے سبقت حاصل کرتے ہوئے 6 نشستوں پرکامیابی حاصل کرلی،جبکہ پانچ آزاد امیدوار بھی میدان مارنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ابتدائی نتائج کےمطابق جی بی اے 4 نگر سےپیپلزپارٹی کےمحمد علی اختر،جی بی اے 5 نگرسے ذوالفقار مراد، جی بی اے 7 اسکردو سے توقیرمہدی شاہ،جی بی اے 11 کھرمنگ سے اقبال حسن اور جی بی اے 19 سے سید جلال شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے دو نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے،جی بی اے 22 گانچھے ون سے مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی فاتح قرار پائے ہیں۔
آزاد امیدواروں میں جی بی اے 23 سےانور علی،جی بی اے 24 گانچھے سے اسد شفیق اور جی بی اے 6 سےنیک نام کریم کامیاب رہے،جبکہ دیگرآزاد امیدواربھی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے بھی ایک نشست اپنے نام کر لی ہے۔
جی بی اے 1 گلگت
جی بی اےون کے 80 میں سے 35 پولنگ اسٹیشنز کا غیرسرکاری نتیجہ سامنے آ گیاہے جس کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امجد ایڈووکیٹ 6950 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کےشفیق الدین 4235 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔
جی بی اے 2
جی بی اے 2 کا مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جہاں مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمٰن نے 11 ہزار 204 ووٹ لے کر میدان مار لیاہے جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 7376 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 3 گلگت
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 3 سے آزاد امیدوار سید سہیل عباس نے 7853 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹ لی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار آفتاب حیدر 7434 ووٹ لے کر دوسرے اور ن لیگ کے ڈاکٹر اقبال 7292 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 4 نگر
جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ سٹشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی اختر 7670 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے ایوب وزیری 656 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 5 نگر
جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار مراد 2628 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار ریاض اکبر 2394 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 6 ہنزہ
جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 میں سے 10 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق نیک نام کریم 691 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 529 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 7 اسکردو
جی بی اے 7 سکردو 1 کے تمام 31 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی نے4320 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے جلال حسین 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 8 اسکردو
جی بی اے8 اسکردو کا مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق ایم ڈبلیوایم کے امیدوار میثم کاظم 10474 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کےسید محمد علی شاہ10118ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 9 سکردو
آزاد امیدوار وزیر سلیم، پی پی کے فدا نوشاد پیچھے
جی بی اے 10 اسکردو
جی بی اے 10 سکردو 4 کے 51 پولنگ سٹیشنز میں سے 5 کے نتائج سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر 387 ووٹ لے کر آگے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے خان وزیر 317 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 11 کھرمنگ
جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 6141 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے محسن رضوی 4170 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے12شگر
جی بی اے 12 شگر کا مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے ، پیپلزپارٹی کے امیدوار عمران ندیم 12179 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ اعظم خان 7700ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 13 استور
جی بی اے 13 استور کے 57 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیاہے،پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا فرمان علی 5506 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ خورشید 5485 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے فہد حنیف 4803 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 14 استور
جی بی اے14استور کے 51 میں سے 40 پولنگ سٹیشنز کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا فاروق 6119 ووٹ لیکرآگے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کےسید عباس موسوی5640ووٹوں کے ساتھ دوسرےنمبر، استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون4941ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 15 دیامر
آزاد امیدوار دلپزیر آگے، آئی پی پی امیدوار پیچھے
جی بی اے 16 دیامر
جی بی اے 16 دیامر 2 کے تمام پولنگ سٹیشنز کے نتائج موصول ہو گئے ہیں ، آزاد امیدوار سید امام مالک نے 6664 ووٹ لے کر سیٹ جیت لی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطاللہ 5273 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 17 دیامر
پی پی کے محمد نسیم آگے، جے یو آئی ف کے رحمت خالق پیچھے
جی بی اے 18 دیامر
آئی پی پی کے گلبر آگے، ن لیگ کے ملک کفایت پیچھے
جی بی اے 19 غذر
جی بی اے 19 عذر 1 کے 78 میں سے 2 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے سید جلال 338 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان 239 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 20 غذر
جی بی اے 20 عذر 2 کے 69 میں سے 2 پولنگ سٹیشن کے نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق ن لیگ کے عبدالجہان 209 ووٹ لے کر پہل جبکہ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 116 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں ۔
جی بی اے 21 غذر
ن لیگ کے غلام محمد، پی پی کے ایوب شاہ پیچھے
جی بی اے 22 گانچھے
جی بی اے 22 گانچھے 1 کے تمام 58 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصو ل ہو گیاہے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد ابراہیم ثنائی نے 12048 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاشق حسین 9258 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 23 گانچھے
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 23 گانچھے 2 کے تمام 50 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12 ہزار 90 ووٹ لے کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید نے 3870 ووٹ حاصل کیئے اور دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 24 گانچھے
جی بی اے 24 گانچھے 3 کے تمام 46 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق نے 8092 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا،بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
خواتین نے بھی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ معمر اور خصوصی افراد بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ دن بھر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر رہی۔ پیپلزپارٹی ۔ ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ نظر آیا۔
الیکشن میں 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے،مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود رہی۔




















