گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد کیس میں لاہور ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا۔
عدالت نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے پرراحت فتح علی خان کی اپیل خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ محض کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل خارج کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کا حق قیمتی قانونی حق ہے، تکنیکی خامی پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اپیلوں پر فیصلے میرٹ پر ہونے چاہیے تنکیکی خامیوں کی بنیادوں پر نہیں۔ محض فیس کی عدم ادائیگی یا تکنیکی خامی پر اپیل خارج کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
لاہور لائیکورٹ نے راحت فتح علی خان کی اپیل بحال کرتے ہوئے ایک لاکھ جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ راحت فتح علی خان سمیت فریقین کو 2 جون کو متعلقہ عدالت پیش ہونے کا حکم دیدیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کو بغیر کسی التواکے دو ماہ میں اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرے۔
راحت فتح نے فیصل آباد میں ایک کنال 9مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کادعویٰ سول کورٹ میں دائر کیا، سول عدالت نے14مئی2019 کوراحت فتح علی خان کے خلاف ڈگری جاری کی تھی۔
راحت فتح علی خان نے سول عدالت کےفیصلے کیخلاف ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کی ، ٹرائل کورٹ نے 15ہزارکورٹ فیس جمع نہ کرانے پر تکنیکی بنیادوں پر اپیل خارج کردی۔ لاہور لائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ نے کورٹ فیس کے لیے درخواست گزار کو صرف 4 دن کا وقت دیا جو کہ ناکافی تھا۔





















