امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سمجھتا ہے کہ میں مڈٹرم الیکشن کی وجہ سے جنگ ختم کردوں گا لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں، میں اس سے بھی زیادہ دیر تک انتظار کر سکتا ہوں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبرداری کے باوجود ریلیف نہیں ملے گا، ایران کی معیشت تباہی کا شکار ہے، مہنگائی 250فیصد تک پہنچ گئی، ایران کا پورا معاشی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بات سے مطمئن نہیں کہ روس یا چین ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم اسٹاک لے جائیں، امریکا ایران کے مالی معاملات اور فنڈز پر کنٹرول برقرار رکھے گا، ایران کو پابندیوں میں نرمی نہیں دی جا رہی۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ اوباما معاہدہ ختم نہ کرتا تو ایران نیوکلیئربم بنا لیتا اور مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کو اڑادیتا، اب ایران کے ساتھ سب کچھ واضح ہو چکا ہے، معاہدہ ہر صورت مکمل اور بہترین ہونا چاہیے۔ ایران کو بھی باقی سب کی طرح رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ فریم ورک ڈیل کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہوگی،کوئی اسے کنٹرول نہیں کرے گا، صحیح وقت پر ہم آبنائے ہرمز سے جہازوں کو چھوڑیں گے۔
اس سے قبل کابینہ اجلاس میں گفتگو کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے لئے بے تاب ہے، ایران کسی قیمت پر ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران کی دوسری درجے تک کی لیڈرشپ ختم کردی، ایران کے ساتھ ڈیل تاحال فائنل نہیں ہوئی۔ ہم فی الحال ایرانی پیشکش سے مطمئن نہیں۔






















