وزیراعظم شہبازشریف نے بیجنگ میں بڑی چینی کمپنیوں کے اعلیٰ سطح کے وفود سے ملاقاتیں کیں،سی پیک کےدوسرے مرحلے کےتحت زرعی،اقتصادی،صنعتی اوربنیادی ڈھانچے کےشعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
چینی کمپنیوں کاپاکستان کی اقتصادی صلاحیت پرمکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہرکی۔
اعلامیہ کےمطابق وزیراعظم سےچینی کمپنی فیم سُن کےسی ای او نےوفدسمیت ملاقات کی،شہباز شریف نےکمپنی کی پاکستانی زرعی شعبے،بالخصوص اناج ذخیرہ کرنے کےحوالے سے طویل خدمات کو سراہا۔فصلوں کی کٹائی کے بعدنقصانات میں کمی کو اپنی ترجیح قراردیا،کمپنی کو دعوت دی کہ وہ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی سہولیات پاکستان میں قائم کرے،شینڈونگ ژن شو گروپ کارپوریشن کےچیئرمین بھی وفد سمیت شہبازشریف سے ملے،وزیراعظم نے گروپ کی پورٹ قاسم میں سی ٹو اسٹیل منصوبے،گوادر اورمعدنیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کو سراہا اور کام تیز کرنے پر زور دیا ۔
وزیراعظم کی چائناکمیونیکیشنزکنسٹرکشن کمپنی کے چیئرمین اورچائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے اعلیٰ نمائندوں سےبھی ملاقات ہوئی،انہوں نےسی پیک کےتحت ایم ایل ون،قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اوردیگر رابطہ سازی کےمنصوبوں پرتیزی سے پیشرفت کےعزم کا اعادہ کیا،اورواضح کیاکہ پاکستان دونوں کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچےکی جدید کاری میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نے بیجنگ میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب میں پاکستان کےساتھ ہرمشکل میں بھرپورتعاون اورخطے میں امن اورخوشحالی کیلئے چین کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب سےخطاب میں شہبازشریف کا کہنا تھا 2010 کےتباہ کن سیلاب میں چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی،چین نے گزشتہ 75 برس میں بےمثال ترقی کی،معاشی طاقت کے لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل بن چکا،
صدرشی جن پنگ کی قیادت میں کروڑوں افرادغربت سے باہر آئے،چینی صدرتنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں،وزیراعظم شہبازشریف اور چینی نائب صدر نے پاک چین تعلقات کی پچھترویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔





















