بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور اس کے دہشتگرد پراکسی نیٹ ورکس اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں،کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو بھی انڈین پراکسی نے نشانہ بنایا۔
بلوچستان کی ایک اور بیٹی ، کانسٹیبل شکیلہ بلوچ بھی انڈین پراکسی کی نذر ہو گئی۔ تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ڈیوٹی پر جا رہی تھی ۔ یہ حملہ صرف ایک ذمہ دار خاتون پر نہیں بلکہ بلوچستان کی ان تمام بہادر خواتین پر حملہ ہے جو عوام کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہیں۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بلوچی روایات، غیرت اور خواتین کے احترام کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف ایک خاتون پولیس اہلکار کو شہید کیا بلکہ معصوم بچے اور شوہر کو بھی زخمی کر دیا۔
یہ حملہ بلوچ معاشرتی اقدار کے منہ پر طمانچہ ہے۔ نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کی مجرمانہ خاموشی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔





















