نئے بجٹ پر مشاورت کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ وزارت خزانہ حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ نئے بجٹ اہداف، ٹیکس ریونیو اور مالی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
آئی ایم ایف وفد کی اسلام آباد میں حکومتی معاشی ٹیم سے مذاکرات شروع ہوگئے۔ وفد 20 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ نئےمالی سال کے بجٹ اہداف، ٹیکس محاصل، مالی اصلاحات،انرجی سیکٹر ریفارمز اور نجکاری میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔
ایک ہفتہ جاری رہنے والے پاک آئی ایم ایف مذاکرات میں وزارت خزانہ،ایف بی آر،اسٹیٹ بینک کے ساتھ ملاقاتیں شیڈول ہیں، وزارت توانائی سمیت دیگر اداروں اور محکموں سے اصلاحات پر مشاورت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وفد کے ساتھ نئے بجٹ کیلئے ٹیکس اور دیگر معاشی اہداف طے کیے جائیں گے۔ ترقیاتی اخراجات کیلئے تجاویز تیار کی جائیں گی۔ مالی نظم و ضبط بہتر بنانے،حکومتی اخراجات اور بجٹ میں ہم آہنگی کے اقدامات پر بات ہوگی۔
پاکستان کو آئی ایم ایف بورڈ سے گزشتہ ہفتے منظور کی گئی قسط بھی موصول ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول 1.3 ارب ڈالر میں ای ایف ایف اور آر ایس ایف پروگرام کے فنڈز شامل ہے۔ مرکزی بینک کو موصول رقم 15 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل ہوگی۔




















