ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے تصدیق کی ہے ایران کا جواب فوری طور پر دوسرے فریق کو بھیج دیا گیاتھا،پاکستان کے دفاعی تعلقات کسی ہمسائے کے ایک دورے سے متاثر نہیں ہوں گے،متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی جلا وطنی پر وزارت داخلہ نے بیان جاری کیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق صومالی بحری قزاقی میں یرغمال بنائے گئے پاکستانی ابھی تک انہی قزاقوں کے پاس ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ پاکستانی محفوظ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے، بتایا گیا ہےیہ قزاق حکومت سے نہیں بلکہ مغویوں کے جہاز کے مالکان سے بات کرتے ہیں، پاکستان کے قطر اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں مثبت پیش رفت ہیں، ہم ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے مثبت ردعمل کے منتظر ہیں، ٹریک ٹو یا بیک ڈور رابطوں کا علم نہیں، امریکا اور چین میں رابطوں کو دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم کےدورہ چین کی تاریخ فائنل ہونے پر اعلان کریں گے،کشتواڑ اور ایل او سی واقعات کے دو مختلف زاویے ہیں ۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایک زاویہ انسانی حقوق جبکہ دوسرا امن و سیکیورٹی کا ہے،ایل او سی پر ہمارے جوان چوکس ہیں،امریکی سینیٹر گراہم کا بیان دیکھا ہے،سی بی ایس نیوز کی خبر کے فوری بعد بیان آیا،وقت کے فرق کے باعث ہمارا بیان تاخیر سے جاری ہوا،ہمارا بیان تمام حقیقی صورتحال واضح کرتا ہے۔
طاہر اندرابی کا کہناتھا کہ وزیراعظم کی قطر کے ہم منصب اورآذربائیجان کے صدر سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی،نائب وزیراعظم خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں،پاکستان امن کیلئے ملکوں کے درمیان مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے،پاکستان خطےمیں امن کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم کی سعودی وزیرخارجہ سے ٹیلیفون پربات چیت ہوئی،سعودی وزیرخارجہ نے پاکستان کی امن کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا،نائب وزیراعظم کی چینی وزیرخارجہ سےبھی بات ہوئی،فریقین نے پائیدار جنگ بندی اور مذاکرات کی اہمیت پر زوردیا،چینی وزیرخارجہ نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا،پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق سی بی ایس نیوزکی رپورٹ مسترد کرتے ہیں،پاکستان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنے ثالثی کے کردار کا اعادہ کرتاہے۔



















