ایرانی نیوی نے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخلےسے روک دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی نیوی نے امریکی بحری جہازوں کے آبنائے ہرمز میں داخلےسے روک دیا، فوری اور مضبوط وارننگ کے ذریعے دشمن کے جہازوں کا راستہ روکا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں وارننگ کو نظر انداز کرنے پر امریکی بحری جہاز پر میزائل فائر کیے گئے، میزائل امریکی بحری جہاز پر لگے، میزائل لگنے پر امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گیا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بحری جہازپر میزائل حملے کی تردید کردی، ایران کا کوئی میزائل امریکی بحری جہاز پر نہیں لگا۔
قبل ازیں ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ایرانی افواج کی اجازت سے ہوگی، امریکی بحریہ کو خبردار کرتے ہیں، آبنائے ہرمز کے قریب نہ آئیں۔
ایرانی افوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے، تجارتی جہاز اور ٹینکرز بغیر اجازت نقل وحرکت سے گریز کریں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حدود میں کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا، جارحانہ کارروائیاں موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کریں گی، ایسے اقدامات خلیج میں جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں غیرجانبدار ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں پھنسے ان کے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا اعلان کردیا۔
سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا یہ اقدام ایران، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے مفاد میں ہے ۔ پروجیکٹ فریڈم آج سے شروع ہوگا ۔ مشن آبنائے ہرمز کیلئے امریکی بحریہ قریب ہی موجود رہے گی تاہم جہازوں کو امریکا کے بحری جنگی جہازوں کے حصار میں نہیں نکالا جائے گا ۔ صرف اُن کی رہنمائی کی جائے گی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے کئی جہاز خوراک اور ضروری سامان کی کمی کا شکار ہیں، آبنائےہرمز میں پھنسے جہازوں کی بحالی کا اقدام انسانی ہمدردی ہے۔ کسی نے جہازوں کی بحالی میں چھیڑچھاڑ کی توسخت جواب دیں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پروجیکٹ فریڈم میں جنگی جہاز 100 سے زیادہ طیارے، ڈرون سسٹمز اور 15 ہزار اہلکار شامل ہوں گے جو صرف اور صرف بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کیلئے ہوں گے۔ کمانڈر بریڈ کوپر نے مشن کو علاقائی سکیورٹی اور عالمی معیشت کیلئے اہم قرار دیا۔




















