اسپیکر ملک احمد خان کے زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ہر طرح سے بولنا آتا ہے،تعلیم کا بجٹ 30ارب سے130 ارب کر دیا گیا ہے،اسکول،کالجز اور تعلیم میں اس کی مثال نہیں ملتی،محکمہ صحت کا ڈویلپمنٹ بجٹ 15ارب سے 100ارب پر جا چکا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہناتھا کہ یہ اسٹیج نہیں ہے یہ پنجاب کا ایوان ہے، 200ارب کسان کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ سے زیادہ کسانوں کو دیا جا چکا ہے، 99فیصد کارڈز کسانوں کو دیے گئے،کسانوں کو مریم نواز پر پورا یقین ہے، 20ہزار ٹریکٹر کسانوں کو دیے گئے اور مزید 30ہزار ٹریکٹر دیئے جا رہے ہیں، زراعت کا بجٹ 80 ارب ہے، یہ 20سال کا سب سے زیادہ بجٹ ہے۔
مریم اورنگزیب کے اظہار خیال کے دوران ایوان میں شور شرابا کیا گیا، سپیکر نے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو آرڈر برقرار رکھنے کی ہدایت کی، اور کہا طارق مسیح گل خاموش ہوجائیں،میاں اعجاز نے جو بات کی ،مریم اورنگزیب کو اس کا جواب ضرور دینا تھا۔ اپوزیشن اراکین اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے۔
تاہم سینئر وزیر نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق پروزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو سلام پیش کرتے ہیں،ابھی میں نے اچھی طرح بات نہیں کی۔ سپیکر نے کہا کہ آپ بل پربات کریں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم سنا کرتے تھے کہ پاکستان دہشت گرد ملک ہے،اس کی وجہ تھی کہ ٹورازم اور فلم انڈسٹری صحیح طرح کام نہیں کرسکی،پاکستان میں فلم پروڈکشن کی کوئی جگہ نہیں تھی،پوری دنیا دیگر ممالک نے اپنی اسکرین پروڈکشن میں پیسہ لگایا ہے،اربوں ڈالرز کا یہ سیکٹر مفلوج پڑا تھا،ہمارے تمام آرٹسٹ جن کوکبھی ایک لاکھ کاچیک بھجوادیا کرتے تھے،وزیراعلی پنجاب کا یہ فلم پروگرام بہت سے مسائل کو حل کرے گا،پاکستان کا فلم میکرز اور پروڈیوسر ریونیو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مریم اورنگزیب کا کہناتھا کہ یہ بل اسٹینڈنگ کمیٹی سے ہوکر آیا ہے،پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل تمام چیزوں کوپروموٹ کرے گا،وزیر اعلی پنجاب ٹورازم کے اندر اہم کردار ادا کر رہی ہیں،اس کے اندرفلم اسکول،میوزک اسکول،پروڈکشن ہاؤسز بنائے جا رہے ہیں،ڈیڑھ سال سے وزیراعلیٰ پنجاب اس پر کام کر رہی تھی۔





















