ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا فریم ورک اختیار کیا ہے۔ پاکستان کی تجویز پر بات چیت اب ثالثوں کے ذریعے جاری ہے، جبکہ عمان اور روس بھی رابطوں کو موثر بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، اور تکنیکی سطح پر مذاکرات متوازی طور پر جاری ہیں۔
اہم نکات
ایران اور امریکہ نے ایران میں براہِ راست مذاکرات کے خلاف داخلی ردِعمل کے بعد بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے، یعنی فارمیٹ تبدیل ہوا ہے مگر مکالمہ جاری ہے۔
ایران نے پسپائی اختیار نہیں کی بلکہ حکمتِ عملی میں رد و بدل کیا ہے؛ بالواسطہ مذاکرات داخلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کا ذریعہ ہیں۔
براہِ راست مذاکرات کی عدم موجودگی ناکامی نہیں بلکہ ایک دانستہ حکمتِ عملی ہے؛ تاریخ میں پیچیدہ تنازعات میں پیش رفت اکثر بالواسطہ رابطوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔
مذاکرات ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، جس سے دونوں فریق سیاسی دباؤ کے بغیر رابطے میں رہتے ہیں جبکہ ماہرین کی سطح پر تکنیکی بات چیت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔
پاکستان، عمان اور روس کی کثیرالجہتی سہولت کاری ایک مضبوط رابطہ ڈھانچہ تشکیل دے رہی ہے، جو تعطل کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، خود کو ایک پل کے طور پر پیش کرتے ہوئے مکالمے کو ممکن بنا رہا ہے، غیر جانبداری برقرار رکھ رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔
سفارتکاری کے تعطل کا بیانیہ گمراہ کن ہے؛ مذاکرات فعال، مرحلہ وار اور حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔
مرحلہ وار سفارتکاری دونوں فریقین کو مؤقف جانچنے، اعتماد سازی کرنے اور داخلی دباؤ کو سنبھالنے کا موقع دیتی ہے، قبل اس کے کہ براہِ راست مذاکرات ہوں۔
یہ سفارتکاری کی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا مذاکراتی فریم ورک ہے، جس میں پاکستان ایک کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مکالمے کو جاری رکھنے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دے رہا ہے۔





















