آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ بھی پریشان،موسم گرما میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
یورپی یونین کےتوانائی کمشنرڈان جورجینسن کاکہناہےہم مختلف ممکنہ حالات کےلیےمنصوبہ بندی کر رہے ہیں،فرض کریں آج جنگ ختم ہوجائےاورآبنائےہرمزمکمل طورپرکھل جائےجوکہ حقیقت پسندانہ نہیں، تب بھی گیس کی پیداوار کو موجودہ سطح پر واپس آنے میں کئی سال لگیں گے۔
انکا مزیدکہنا تھاکہ تیل کےمعاملےمیں صورتحال مختلف ہے،پیداوارچندہفتوں میں بحال ہوسکتی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ سے یورپ تک ترسیل میں بھی وقت لگے گا،اس لیےہمارا اندازہ ہےکہ آنے والی گرمیوں کا موسم مشکل ہوگا۔ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی جیٹ فیول اور بعد میں ڈیزل کی قلت ہو سکتی ہے۔
ایئرلائنزمختلف روٹس بند کر کےاپنی طلب کم کر رہی ہیں،اگر یہ صورتحال مہینوں یا سالوں تک جاری رہی تو دنیا کا نظام بدل سکتا ہے اور اس کے بہت سنگین معاشی نتائج سامنے آئیں گے۔






















