خلیج میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھل گئے ۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بندش کے خطرات کے پیشِ نظر عالمی کارگو کا رخ دبئی اور عمان سے ہٹ کر پاکستانی بندرگاہوں کی جانب مڑنے لگا ہے۔ درست پالیسی کےذریعے پاکستان خطے کا اہم تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ پورٹ قاسم پر بھی کارگو ہینڈلنگ میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ۔ گوادر بندرگاہ نے بھی پہلی بارعلاقائی شپنگ نیٹ ورک میں اپنی موجودگی کا بھرپوراحساس دلایا ہے۔ تاہم رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہےکہ اس عارضی موقع کو مستقل فائدے میں بدلنےکے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کراچی پورٹ کو بڑھتےہوئے شہری دباؤ اور گنجائش کی کمی کا سامنا ہے جبکہ دیگر بندرگاہوں کو بھی جدید انفرا اسٹرکچراور سہولیات کی کمی درپیش ہے۔ دبئی کی بڑی بندرگاہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنا ڈیجیٹل نظام ، لاجسٹکس زونز اور عالمی شپنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو بہتر بنانا ہوگا ۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ قیمتی موقع ضائع ہوسکتا ہے۔



















