امریکی حکام کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں چند دنوں میں اہم پیشرفت متوقع ہے،ہم پاکستان میں مزید بات چیت کے منتظر ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی،صدرٹرمپ کی زیرصدارت سچویشن میں روم اعلیٰ سطح کااجلاس ہوا،وائٹ ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس میں اعلیٰ قومی سلامتی حکام شریک ہوئے،اجلاس میں آبنائے ہرمز اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا،امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اگرمذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
ادھر روس نے ایرانی یورینیم کو ہٹانےمیں مدد کی پیش کش کردی،روسی جوہری توانائی کارپوریشن نے جاری بیان میں کہا روس واحد ملک ہےجس کا ایران کے ساتھ تعاون کا اچھا تجربہ ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نےکہاامریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سےمتعلق بیانات بے معنی ہیں،آبنائے ہرمز امریکی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث بند رہے گی، آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی،خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی جہاز اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے، آبنائے ہرمز کے قریب جانا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا،اگر غیرملکی جہازوں نے کوئی حرکت ک تو نشانہ بنائیں گے،تمام جہاز پاسدارانِ بحریہ کی سرکاری معلومات پر عمل کریں۔
دوسری جانب حزب اللہ کےسربراہ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہااسرائیل کے ساتھ جنگ بندی یکطرفہ نہیں ہو سکتی، دس روزہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک دونوں فریق پابندی نہ کریں،جنگ بندی کا مطلب تمام لڑائی اور دشمنی کا مکمل خاتمہ ہے،ہمیں اسرائیل پر اعتماد نہیں ،ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں،ہمارے جنگجو لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جواب دیں گے





















